ca-app-pub-6425843709490198/1065050177

Bhakkar Politician

Aas Tv Bk
1

 

بھکر کی سیاست 



محمد عارف قریشی

بھکر کی سیاست ایک مرتبہ پھر الٹی ہو گئی ہے۔ پی ٹی آئی والے مسلم لیگ میں آگئے ہیں اور مسلم لیگ والے تحریک انصاف میں چلے گئے ہیں۔ ہمارا مطلب حالیہ سیاسی اتھل پتھل سے ہے۔ آئندہ 17جولائی 2022ء کو ہونے والے صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میںن لیگ کے ٹکٹ ہولڈر   سعید اکبر نوانی نے 2018ء کا الیکشن آزاد حیثیت سے لڑا تھا۔ جس میں کامیابی کے بعد وہ عمران خان کو پیارے ہو گئے تھے۔ بعد ازاں بوجوہٗ انہوں نے جہانگیر ترین گروپ میں شامل ہو کر تحریک انصاف سے ناطہ توڑ لیا اور منحرف کہلائے ۔اس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن نے انہیں ان کی نشست سے فارغ کر دیا اور اس قربانی کے طفیل ن لیگ نے انہیں اپنا لیا۔ ان کے مقابلے میں خاندانی مسلم لیگی عرفان اللہ خان پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر میدان میں اترے ہیں۔ حالانکہ عمران خان کے کزن ہونے کے باوجود نہ صرف انہوں نے بلکہ ان کے بڑے بھائی انعام اللہ خان اور نجیب اللہ خان (مرحوم) نے بھی پچھلے سارے الیکشن مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر لڑے تھے۔ انعام اللہ خان تو ن لیگ کے جیالے شمار ہوتے تھے۔ ان کے چچا امان اللہ خان نیازی نے مسلم لیگ کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔ پھر یہ کیسا انقلاب ہے؟

سنا ہے عرفان اللہ خان پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے پر قطعاً تیار نہیں تھے۔ جبکہ عمران خان کو بھی انہیں ٹکٹ دینے کے بارے تحفظات تھے۔ مبینہ طور پر یہ مرحلہ شوق ان کے ایک اور کزن رفیق احمد خان نیازی نے طے کرایا ہے جو عرفان خان کو بنی گالہ لے کر گئے تھے۔ تاہم ہمارے خیال میں عرفان اللہ خان کی تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے پر آمادگی میں ن لیگ کی بے وفائی کا بڑا دخل ہے۔ جس نے اپنے ایک پرانے ساتھی کی بجائے ان کے ازلی سیاسی مخالف کو ٹکٹ دے دیا۔ ہماری مراد سعید اکبر خان نوانی سے ہے۔ کون نہیں جانتا کہ میانوالی کے ان نیازی برادران نے جب سے بھکر میں سیاست شروع کی وہ نوانیوں کے خلاف ہی رہے ہیں بلکہ بھکر میں ان کی سیاست کی ابتدا ہی نوانی مخالفت سے ہوئی۔ نجیب اللہ خان (مرحوم) نے بھکر کی سیاست میں انٹری دی تو ان کا پہلا نعرہ ہی ’’نوانی ٹھاہ ‘‘ تھا۔ جس کے نتیجے میں تمام انٹی نوانی ووٹ ان کے گرد جمع ہو گیا اور اسی بنیاد پر وہ دو تین مرتبہ ایم پی اے منتخب ہوئے۔ وہ جب تک زندہ رہے اس محاذ پر ڈٹے رہے اور مسلم لیگ بھی ان کی پشت پر رہی ۔درمیان میں ایک مختصر وقفے کے لیے وہ پی ٹی آئی میں گئے تھے لیکن اس دوران عمران خان نے ان سے کوئی اچھا سلوک نہیں کیا۔(جیسا کہ ان کی روایت ہے کہ وہ اپنوں سے بُرا سلوک ہی کرتے ہیں)چنانچہ مرحوم بقول خود اپنے گھر (ن لیگ میں )واپس آگئے۔ یاد آیا ان کی مسلم لیگ میں واپسی کی ایک وجہ ان کے بڑے بھائی انعام اللہ خان کو میانوالی سے ایم این اے کیلئے تحریک انصاف کا ٹکٹ نہ ملنا بھی تھی۔ عمران نے یہ ٹکٹ اپنے کزن کی بجائے ڈاکٹر شیر افگن (مرحوم) کے بیٹے امجد علی خان کو دے دیا تھا۔ 

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلم لیگ سے بزرگوں کے زمانے کی وابستگی کے باوجود عرفان اللہ خان کو اس کا ٹکٹ نہ ملنا دکھ کی بات تو ہے ناں۔مگر کیا کریں سیاسی جماعتوں کی بھی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ اگر ن لیگ اپنے وعدے کے مطابق اس مرحلے پر سعید اکبر خان کو ٹکٹ نہ دیتی تو اس کے وزیر اعلیٰ پنجاب کا ایک ووٹ کم ہو جائے گا اور جیسا کہ نظر آرہا ہے ان حالات میں پنجاب میں کوئی بھی جماعت اپنے ایک ووٹر کی ناراضگی بھی مول نہیں لے سکتی۔ 

اب آئیے اس الیکشن کے نتائج کی طرف ۔ تو اس سلسلے میں ایک بات طے ہے کہ کم از کم بھکر میں کسی بھی امیدوار کی ہار یا جیت کو کسی سیاسی جماعت سے مشروط نہیں کیاجاسکتا۔ یعنی کسی کے بارے میں یقین یہ نہیں کہاجاسکتا کہ چونکہ یہ فلاں جماعت کا ٹکٹ ہولڈر ہے اس لیے یہ جیت جائے گا ۔ یہاں برادریوں اور گروپوں کے ووٹ ہیں۔ ممبران پارلیمنٹ سیاسی جماعت سے ہٹ کر عموماً اپنے اثر و رسوخ پر منتخب ہوتے ہیں۔ بھکر میں بلاشبہ تحریک انصاف کے حامیوں کی تعداد مسلم لیگ ن سے زیادہ ہے لیکن وہ مجتمع نہیں۔ دوسرے تحریک انصاف کے ووٹر اپنے عہدیداران سے خوش نہیں۔انہیں یہ شکایت ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے ورکرز کو نظر انداز کر کے جماعت کے تمام عہدے وڈیروں کی جھولی میں ڈال دیئے ہیں جو انہوں نے آگے اپنے عزیز و اقارب میں بانٹ دیئے ہیں۔ بقول ان کے بھکر میں تحریک انصاف کے کارکنوں کے سامنے ان کے نظریات کے برعکس فیصلے ہورہے ہیں۔ چنانچہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس جماعت میں قربانی دینے والے نظریاتی کارکن محض نعرے مارنے ،کرسیاں لگانے اور دریاں اٹھانے تک محدود رہیں گے۔ ویسے بھی تحریک انصاف کی جو لہر 2018ء میں چلی تھی 2022ء میں اس میں وہ تندی اور تیزی نہیں ہے۔ اس صورتحال میں قارئین خود اندازہ کر لیںکہ آئندہ الیکشن کے نتائج کیا ہوں گے۔

Tags

Post a Comment

1Comments
Post a Comment