ca-app-pub-6425843709490198/1065050177

عمران خان کیا چاہتے ہیں ؟

Aas Tv Bk
0


عمران خان کیا چاہتے ہیں ؟



محمد عارف قریشی

سابق وزیر اعظم عمران خان کی آج کل جو کیفیت ہے اس سے لگتا ہے کہ اقتدار سے محرومی نے ان کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں رہے ۔وہ جب تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں یاد نہیں رہتا کہ ان کا ایک معزز و مہذب خاندان سے تعلق ہے۔ کرکٹ کے حوالے سے وہ اس قوم کے ھیرو رہ چکے ہیں انہوں نے غریبوں کے لئے ایک خیراتی ہسپتال بنوایا جو ان کا ایک عظیم کارنامہ ہے سیاست میں آنے سے پہلے انہوں نے کئی مرتبہ کہا کہ وہ کبھی سیاست میں نہیں آئیں گے لیکن اچانک وہ اس اکھاڑے میں کود پڑے اور پھر ترقی کرتے کرتے اقتدار کی منزل تک جا پہنچے ۔یہاں تک تو بات درست تھی لیکن جو نہی انہیں آئینی اور قانونی طریقے سے کرسیِ ــ صدارت (وزارتِ عظمی) سے الگ کیا گیا وہ اپنا سارا مقام و مرتبہ بھول گئے یہاں مجھے انڈین فلم کا ایک گانا یاد آرہا ہے جو کچھ اس طرح ہے ۔’’بھول گیا سب کچھ ‘یاد نہیں اب کچھ ‘بس یہی اک بات نہ بھولی ‘جولی ‘آئی لو یو ‘‘بعینہ عمران خان کوبسی آج کل سوائے رجیم چینج کے کچھ یاد نہیں وہ رات دن اقتدار سے یہی کہتے ہیں ’’کہ آئی لو یو ‘‘

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم نے اسلامی تہذیب کے پر خچے اڑا دیے ہیں اخلاق کا بیڑا غرق کر دیا ہے اپنی تقاریر میں وہ اپنے سیاسی مخالفین کو جن تحقیر آمیز ناموں سے پکارتے ہیں اس کی مثال شاید ہی کہیں ملتی ہو سیاسی مخالفت کو انہوں نے سیاسی دشمنی میں بدل دیا ہے اپنے اہل خانہ     (سابق خاتون اول )کے بارے میں تو وہ اتنے حساس ہیں کہ ان کی سہیلیوں پر بھی تنقید برداشت نہیں کرتے مگر دوسروں کی بہو بیٹیوں کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وہ اخلاقیات کی ساری حدیں پار کر جاتے ہیں یہ کہاں کا انصاف ہے جو تحریکِ انصاف سے سر زد ہو رہا ہے ۔ پنجاب اسمبلی کے ضمنی انتخابات کی مہم کے آغاز سے تو ان کے بیان میں بڑی شدت آ گئی ہے اور انہوں نے حکومت وقت کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کو بھی اپنے نشانے پر رکھ لیا ہے ڈھکے چھپے الفاظ میں فوج اور عدلیہ اور وا شگاف لفظوں میں چیف الیکشن کمشنر ،آئی جی اور چیف سیکر ٹری پنجاب کو بھی وہ معاف نہیں کرتے بلکہ اب تو بات دھمکیوں تک جا پہنچی ہے اور ان کے نام ڈائری میں نوٹ کئے جا رہے ہیں 

اب گزشتہ کچھ دنو ں سے نہ صرف خود خانِ اعظم بلکہ ان کے حواریوں نے بھی یہ رٹ لگا رکھی ہے کہ اگر شفاف انتخابات نہ ہوئے تو (خدانخواستہ) یہ ملک سری لنکا بن جائے گا۔ شفاف انتخابات سے ان کی کیا مراد ہے؟ یہ جاننے کیلئے کسی اونچے درجے کی ذہنی استعداد کی ضرورت نہیں ۔اُن کے نزدیک شفاف انتخابات وہی ہوں گے جن میں پی ٹی آئی کامیاب ہوورنہ وہ پاکستان کو سری لنکا بنا دیں گے۔ اندریں حالات ہماری وطنِ عزیز کے مقتدر حلقوں سے  درخواست ہے کہ آئندہ ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف جیتے یا ہارے پنجاب کی قلمرو اُسی کے حوالے کر دی جائے بلکہ آئندہ عام انتخابات میں بھی نتائج سے قطع نظر تاجِ سلطانی عمران خان ہی کو پہنا دیا جائے کیونکہ ہمارا ملک آج کل جن مسائل سے دو چار ہے ان کے ہوتے ہوئے ہم کسی نئے بحران کے متحمل نہیں ہوسکتے۔خاکم بدہن اپنی مزید بربادی برداشت نہیں کرسکتے۔ پی ٹی آئی والوں کیلئے تو کوئی مسئلہ نہیں خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ محمود خان کہہ چکے ہیں کہ ’’اگر ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ہم افغانستان ہجرت کر جائیں گے‘‘۔لیکن ہم کہاں جائیں گے؟

سابق وزیر اعظم نے بد اخلاقی اور بدزبانی کا جو زہر اپنے پارٹی کارکنان کی رگوں میں بھر دیا ہے اُس کے ثمرات منظر عام پر آنے لگے ہیں۔   گزشتہ دنوں مریم نواز کی جانب سے عمرہ پر جانے کیلئے عدالت کو اپنا پاسپورٹ واگزارکرنے کی درخواست پر تبصرہ کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا ’’نو سوچوہے کھا کے بلی حج کو چلی‘‘ حج یا عمرہ ایک اسلامی فریضہ ہے اس پر اس انداز کا تبصرہ ہمارے خیال میں کسی مسلمان کو تو زیب نہیں دیتا۔22اپریل 2022ء کو بنی گالہ میں شبِ دعا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا طارق جمیل نے کہا تھا ’’ہمیں اپنی زبان میں شائستگی لانی چاہیے اور اسے مہذب بنانا چاہیے‘‘۔ ہمارے خیال میں ان کا اشارہ اس تقریب میں موجود عمران خان کی طرف تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ نیازی صاحب پر اس نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ ویسے بھی ان پر کسی کی نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ آخر میں اس ڈر سے کہ کہیں ہمارا نام بھی مخالفین کی ڈائری میں درج نہ کر دیا جائے ہم اپنی’’ لغویات ‘‘ کو ختم کرتے ہیں ۔بس تھوڑے لکھے کو بہت جانیے اور ہماری صحت و سلامتی کیلئے دعا کیجئے۔

Tags

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)