گردو پیش
اسٹیبلشمنٹ سے درخواست
تحریر: محمد عارف قریشی
کینیا میں معروف ٹی وی اینکر ارشد شریف کے قتل اور وزیر آباد میں سابق وزیر اعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔جتنا افسوس کیا جائے تھوڑا ہے۔ زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ ان واقعات پر سیاست کی جارہی ہے۔ نہ صرف پی ٹی آئی بلکہ حکومت دونوں کی جانب سے ایک دوسرے پر الزام تراشی ہورہی ہے۔ تحقیق و تفتیش کے بغیر مخالفین کو ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ خان صاحب نے تو بغیر ثبوت وزیر اعظم شہباز شریف ،وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اور ایک بڑے فوجی افسر کو خود پر قاتلانہ حملے کا ملزم نامزد کر دیا ہے۔ اور وہ ان کے نام FIRمیں درج کرانے پر بضد ہیں۔ جبکہ حکومتی حلقے اس واقعہ کو عمران خان کی جانب سے توہین مذہب کا شاخشانہ قرار دے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ وزیر آباد فائرنگ کے گرفتار ملزم نے بھی کچھ اسی نوعیت کا بیان دیا ہے کہ عمران خان مذہبی حوالے سے قوم کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ہمارے خیال میں ایسا کچھ کہنا قبل از وقت اور خطرناک ہے۔ تحقیقات کے بغیر کسی کو الزام دینے کے نتیجے میں طرفین کا کوئی بھی شخص مشتعل ہوکر کوئی بڑا نقصان کر سکتا ہے۔ اسی طرح ارشد شریف کے معاملے میں بھی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششوں کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس واقعہ کی تہہ تک پہنچنے کے سارے نشانات معدوم ہوجائیں گے اور مرحوم کے وارثان کو انصاف ملنا مشکل ہوگا۔
اور اب آئیے عمران خان کے لانگ مارچ کی طرف جو گزشتہ دس نومبر سے پھر شروع ہو چکا ہے۔ اگرچہ اب اس میں خان صاحب بنفسِ، نفیس شریک نہیں ہوں گے اس کی بجائے وہ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ویڈیو لنک کے ذریعے اس کے شرکاء سے خطاب کرتے رہیں گے۔ لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے ۔ان کی باتوں میں وہی کڑواہٹ اور ان کے الفاظ حسبِ سابق زہر آلود ہوں گے۔ بلکہ اب تو وہ پہلے سے زیادہ غضب ناک ہیں۔ چنانچہ ان کی تقاریر مزید اشتعال انگیز ہوں گی جو ان کے پرستاروں کو مزید بھڑکا دیں گی۔ اس کا نتیجہ سرکاری و نجی املاک کی تباہی بھی ہوسکتا ہے ۔سڑکیں میدان جنگ بن سکتی ہیں اور گھر گھر لڑائی ہوسکتی ہے۔ یہی وہ صورتحال ہے جس کی طرف خان صاحب اور ان کے حواری بار بار اپنی گفتگو اور تقریروں میں سری لنکا کے حوالے سے اشارہ کرتے ہیں۔ رہی اس لانگ مارچ کے پرامن ہونے کی بات تو خدا خیر کرے ابھی تو یہ مارچ گجرانوالہ پہنچا ہے اور چار لوگوں کی جان جاچکی ہے۔ اسلام آباد تک تو بڑا سفر ہے۔ اس سفر میں اور ان کے اسلام آباد پہنچنے کے بعد کیا ہوگا۔ جناب عمران خان لاکھ کہیں کہ یہ مارچ پُر امن ہوگا اُن کے گھر کے بھیدی لنکا ڈھا چکے ہیں۔ اُن کی کچن کیبنٹ کے ارکان نے سارا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے فیصل واوڈا کا بیان بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ عمران خان جو لانگ مارچ لے کر چل رہے ہیں، میں اس میں خون ہی خون دیکھ رہا ہوں۔ موت ہی موت دیکھ رہا ہوں۔ وہاں لاشیں گریں گی۔ جبکہ علی امین گنڈا پور نے اپنی آڈیو میں کسی لگی لپٹی کے بغیر بتا دیا کہ وہ اس کے لیے بندوقیں اور بندے جمع کررہے ہیں۔ اس پر مہر ِتصدیق KPK کے وزیر تعلیم کامران بنگش نے یہ کہہ کر ثبت کر دی کہ ہم بندوقیں لے کر اسلام آباد آئیں گے۔ اور آخر میں خود خان صاحب نے بھی اس خدشے کا اظہار کر دیا کہ یہ مارچ خونی بھی ہو سکتا ہے۔
ان حالات میں پی ٹی آئی کی نظر میں تو اس کا واحد حل فوری انتخابات ہیں۔ جبکہ حکومت اس کے لیے تیار نہیں۔ جہاں تک اس سلسلے میں متحارب دھڑوں کے مابین مذاکرات کا تعلق ہے وہ عمران خان کے مطابق ہو بھی رہے ہیں اور نہیں بھی ہورہے۔ اس حوالے سے خان صاحب کا یہ بیانِ محل نظر ہے کہ شہباز شریف تمہارے پاس ہے کیا جو میں تم سے بات کروں؟ گویا وہ حکومتِ وقت سے تو گفتگو کرنا ہی نہیں چاہتے (حالانکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے تو آن بورڈ یہ بیان دیا ہے کہ وہ ان سے رابطہ کر چکے ہیں) بہرحال عمران خان اُن سے رابطوں کی کوشش کررہے ہیں جن کے پاس بقول اُن کے سارا اختیار ہے۔ جبکہ ان حلقوں نے نیوٹرل رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اب یہ مسئلہ کیسے حل ہوگا؟ ہمارے خیال میں اسٹیبلشمنٹ کو ملکی مفاد کی خاطر ایک بار (صرف ایک بار) یو ٹرن لے لینا چاہیے۔ اُ سے حکومت اور اپوزیشن کو ایک میز پر لاکر اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکالنا چاہیے ورنہ اگر یہ دونوں دھڑے اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور اصلاح احوال کی کوئی صورت سامنے نہ آئی تو پھر دما دم مست قلند ر ہوگا۔ اور اس میں جہاں شہباز شریف اور عمران خان کا نقصان ہوگا وہاں ریاست کو بھی زک پہنچے گی۔ اگرچہ یہاں پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان کا یہ بیان بھی بڑا وزن رکھتا ہے کہ اُس آدمی سے کیا بات کی جائے جو رات کو ترلے کرتا ہے اور دن کو گالیاں دیتا ہے۔ اس کے باوجود ہم حکومت سے کہیں گے کہ وہ اسے اپنی انّا کا مسئلہ نہ بنائے اور ریاستی اداروں (عدلیہ ،اسٹیبلشمنٹ) کے ساتھ مل کر وطنِ عزیز کو اس بحران سے نکالنے کی سعی کرے۔
کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ دن بدن سابق وزیر اعظم کی فرسٹیشن میں جس طرح اضافہ ہورہا ہے اس کا نتیجہ کچھ اچھا نہیں ہو گا۔ خان صاحب اپنی تقریروں میں تو قرآن اور حدیث کے حوالے دیتے ہیں لیکن لگتا ہے کہ وہ مطالعہ میکیاولی کی ’’دی پرنس‘‘ کا کرتے ہیں۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بادشاہ کو حصولِ اقتدارکیلئے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرنا چاہیے۔ تبھی تو انہوں نے اپنے ایک بیان میں مارشل لاء کو بھی خوش آمدید کہا ہے۔ جبکہ ہم نے تو سنا ہے کہ ’’بُری سے بُری جمہوریت بھی اچھے سے اچھے مارشل لاء سے بہتر ہے‘‘۔


