ca-app-pub-6425843709490198/1065050177

BLACK GOLD

Aas Tv Bk
0

 


کالا سونا‘‘ جس کی تلاش میں انگریز ،انڈیا تک آپہنچا۔۔

کالی مرچ ہمارے پسندیدہ اور مزیدار کھانوں میں اکثر استعمال ہوتی ہے شاید آپ کو یہ معلوم ہو کہ یہ کہاں سے آتی ہے اور کس طرح پیدا ہوتی اور تیار کی جاتی ہے لیکن کیا آپکو یہ بھی معلوم ہے کہ اس مصالحے کی کشش یورپی قوموں کو انڈیا کھینچ کر لائی تھی اور بالآخر وہ ہمارے حاکم بن بیٹھے تھے؟۔کسی زمانے میں کالی مرچ اتنی قیمتی تھی کہ اسے کالا سونا کہا جاتا تھا۔ 

آجکل کالی مرچ اکثر گھروں کے باورچی خانوں میں پائی جاتی ہے اور یہ اتنی آسانی سے دستیاب ہے کہ ہم اسے کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے۔ البتہ کسی زمانے میں یہ اتنی قیمتی تھی کہ اسے کالا سونا کہا جاتا تھا اور مہمانوں کے لیے تیار کردہ کھانوں میں کالی مرچ کا استعمال میزبان کی دولت اور طاقت کا بلا انکار ثبوت تسلیم کیا جاتا تھا۔ یورپ میں اس قیمتی اور نایاب مصالحے کی ہر کسی کو تلاش تھی۔ لیکن انکو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ کہاں پیدا ہوتا ہے اور اسے کیسے تیار کیاجاتا ہے۔ اس کے متعلق وہاں کئی بے بنیاد کہاوتیں مشہور تھیں جن میں سے ایک یہ تھی کہ اڑنے والے انتہائی زہریلے سانپ کالی ‏مرچ کے جنگلوں کی رکھوالی کرتے ہیں اور مقامی لوگ جنگلات کو آگ لگا کر ان سانپوں کو عارضی طور پر بھگانے کے بعد اس مصالحے کوحاصل کرتے ہیں جسکی وجہ سے اسکا رنگ کالا ہوتا ہے اور اس میں آگ کا ذائقہ پایا جاتا ہے۔ کالی مرچ کیرالا انڈیا میں پائی جاتی ہے کالی مرچ کا مقام پیدائش انڈیا میں کیرالا ہے جہاں یہ درختوں پر بیل کی صورت میں اگتی ہے۔ تین دن کے لیے سبز بیریوں کودھوپ میں سْوکھا کر کالی مرچ تیار جاتی ہے۔لوگ ہزاروں سالوں سے ان کو چن کرمصالحہ تیار کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ‏کئی صدیوں تک یورپ میں اسے بیچ کر صرف عرب تاجروں نے بے شمار دولت کمائی کیونکہ اس علاقے کا راستہ صرف وہی جانتے تھے اور وہ اپنے گاہکوں تک اس راز کو پہنچنے نہیں دے رہے تھے ۔ اس راز کو محفوظ رکھنے میں یورپیوں کی بے بنیاد کہاوتیں بھی ان تاجروں کے لیے مدد گار ثابت ہو رہی تھیں۔ اس مصالحے کا یورپ میں استعمال رومن دور میں شروع ہوا تھا البتہ پندرہویں صدی عیسوی کے دوران یورپی امیر گھروں کے کھانوں کے علاوہ کالی مرچ کا استعمال 'کالی موت' یا طاعون کے علاج کے لیے بھی شروع ہوگیا جسکے پھیلنے سے وہاں لوگ بڑی تعداد میں مر رہے تھے۔ ‏اس قیمتی مال کی سخت ضرورت اور شدید مانگ کی وجہ سے 8 جولائی 1497 میں پرتگال نے اپنے سب سے اعلیٰ سمندری جہاز واسکو ڈی گاما کو کالی مرچ کے منبع کو تلاش کرنے کی مہم پر روانہ کیا جو مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے سمندری ہواؤں کی مدد سے افریقی ساحلوں کے کٹھن بحری راستے سے مئی 1498 میں انڈیا تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ اسطرح اسے یورپ میں سب سے پہلے انڈیا تک سمندری راستہ تلاش کرنے کا مقام بھی حاصل ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ واسکو ڈی گاما کے اس کارنامے سے پرتگال کا جیک پاٹ نکل آیا تھا۔ ‏واسکو ڈی گاما انڈیا پہنچنے سے پہلے یہاں بے دین جنگلی وحشی دیکھنے کی امید لگائے بیٹھا تھا جو بیکار یورپی اشیا کے بدلے اپنا کالا سونا با خوشی اسکے حوالے کر دیں گے۔ جب وہ کیرالا کے شہر کوچی پہنچا تو اس کے بالکل برعکس لوگوں کو تمیزدار اور بہت دولتمند پایا۔ ‏دور دور سے عرب، چینی اور کئی دوسرے تاجر صدیوں سے اس مرکز پر تجارت کے لیے آ رہے تھے۔ پندرہویں صدی میں کیرالا کے لیے کالی مرچ وہی مالی مقام رکھتی تھی جو آجکل گلف کی ریاستوں کے لیے تیل رکھتا ہے۔اس کے یہاں آنے کے بعد آٹھ سال کے اندر ہی ‏پرتگال نے وہاں اپنے قدم اچھی طرح سے جما لیے تھے۔ انہوں نے ایک قلعہ بھی تعمیر کر لیا تھا جہاں انہوں نے انڈیا میں اپنے پہلے وائسرائے کو ٹھہرایا۔ 

سولہویں صدی کے آغاز سے پہلے ہی پرتگالی مصالحوں کی تجارت میں سب سے آگے نکل چکے تھے ‏اور جو مال وہ تجارت سے حاصل نہیں کر سکتے تھے، اپنی طاقت سے چھین لیتے تھے۔ کالی مرچ کی خاطر پرتگال نے انڈیا کے مصالحے والے ساحلی علاقوں کو اپنے محاصرے میں لے لیا تھا۔ ایک مرتبہ جب انہیں یہ یقین ہو گیا کہ انڈیا میں کالی مرچ کی تجارت اب انکے مکمل قابو میں ہے ‏تو انہوں نے اپنی توجہ دوسرے مصالحوں کو ڈھونڈنے کی طرف کر دی۔ اگلا مصالحہ دار چینی تھا, جو سولہویں صدی میں امیر یورپیوں میں بے حد مقبول تھا۔ یہ کالی مرچ سے بھی زیادہ نایاب تھا ۔کیرالا کے آس پاس کے سمندر میں ‏عرب تجارتی جہازوں پرمسلسل چھاپوں میں انہیں بار بار ان پر لدے مال میں دار چینی مل رہی تھی اس لیے انہیں شک تھا کہ یہ مصالحہ کہیں آس پاس ہی پایا جاتا ہے لیکن وہ کیرالا کے سمندر سے آگے کے علاقے سے بالکل ناواقف تھے۔ 1506 میں پرتگالی ایک عربی جہاز کا پیچھا کرتے ہوے طوفان میں راستہ بھٹک گیا اور انہوں نے ایک انجان ساحل پر پناہ لی۔ یہ سری لنکا کا ساحل تھا اور دار چینی یہاں ہی پائی جاتی تھی اور یوں انہیں دار چینی کا منبع بھی مل گیا۔

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)