ca-app-pub-6425843709490198/1065050177

Pervaiz Elahi VS Imran Khan

Aas Tv Bk
0

 پرویز الہٰی بمقابلہ عمران خان

محمد عارف قریشی

9اپریل 2022ء (جس دن سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور ہوئی۔ )کی طرح گزشتہ 23دسمبر کا دن بھی اس لحاظ سے یادگار رہے گا کہ اس روز بھی تقریباً سارا دن پوری قوم ایک ہیجان اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا رہی۔صبح آنکھ کھلی تو پتہ چلا کہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمن نے اُن (گورنر) کی ہدایت پر اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ نہ لینے کی وجہ سے وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کو ان کے عہدے سے ڈی نوٹیفائیڈ کر دیا ہے۔ پھر معلوم ہوا کہ چوہدری پرویز الہٰی گورنر کے اس اقدام کے خلاف ہائی کورٹ چلے گئے ہیں۔ ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس کیس کے ابتدائی جائزے کے بعد چوہدری پرویز الہٰی سے کہا کہ وہ پہلے یہ لکھ کر دیں کہ کیس کی اگلی سماعت تک اسمبلی تحلیل نہیں کریں گے۔ اس کے بعد ہم اپنا فیصلہ سنائیں گے یہ چوہدری پرویز الہٰی تو شاید چاہتے یہی تھے چنانچہ انہوں نے بلاتاخیر یہ انڈر ٹیکنگ دے دی۔ (اگرچہ اس سے پہلے اپنی وفاداری کا ثبوت دینے کے لیے حفظ ماتقدم کے طور پر عمران خان سے پوچھ لیا گیا) اس پر معزز عدالت نے اپنے عبوری حکم میں گورنر پنجاب کا وزیر اعلیٰ پنجاب کو برطرف کرنے کا آرڈر معطل کر دیا۔ (یاد رہے کہ یہ آرڈر کالعدم قرار نہیں دیا گیا) اور کیس کی آئندہ سماعت 11جنوری تک ملتوی کر دی۔ 

جہاں تک لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کا تعلق ہے وہ اس حوالے سے بڑا دلچسپ ہے کہ اس پر دونوں فریق اپنی اپنی فتح کے شادیانے بجا رہے ہیں اور واقعتا اس میں دونوں کی کامیابی ہے۔ کیونکہ پی ڈی ایم ،پی ٹی آئی اور ق لیگ سب اسمبلیوں کی فوری تحلیل نہیں چاہتے۔ قارئین کیلئے یہ بات باعثِ تعجب ہوگی لیکن یہ حقیقت ہے (ذرائع یہی بتاتے ہیں) کہ عمران خان دونوں اسمبلیاں پنجاب اور kPKتوڑنا نہیں چاہتے۔ دراصل چوہدری پرویز الہٰی کا یہ مشورہ خان کے دل کو لگا ہے کہ اُن (عمران خان) کے خلاف عدلیہ الیکشن کمیشن اور نیب میں جو مقدمات زیر سماعت ہیں ان میں سے کچھ یا شاید سب کے فیصلے اُن کے خلاف بھی آسکتے ہیں اور وہ گرفتار بھی ہو سکتے ہیں۔ (سنا ہے خان صاحب جیل جانے سے بہت ڈرتے ہیں) ان حالات میں اگر اسمبلیاں ٹوٹنے کے بعد پنجاب اور کے پی کے میں ان کی حکومت نہیں ہوگی تو وہ گرفتاری سے بچنے کیلئے بنی گالہ چھوڑ کر کہاں جائیں گے۔ اب تو وہ پشاور چلے جاتے ہیں یا لاہور آجاتے ہیں اور یہاں کی حکومتیں انہیں تحفظ فراہم کر دیتی ہیں۔ 

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سابق وزیر اعظم اسمبلیاں تڑوانا نہیں چاہتے تو وہ بار بار اس کیلئے تاریخیں کیوں دے رہے ہیں۔ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ ایک تو انہیں اپنے حامیوں کو مطمئن رکھنا کہ وہ اپنے قول پر قائم ہیں دوسرا وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں افراتفری رہے ،انتشار ہو تاکہ پی ڈی ایم اطمینان کے ساتھ حکومت نہ چلا سکے۔ اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کپتان کے پاس آخری پتہ تھا جس کو وہ پھینک چکے ہیں۔ اب کوئی نیا بیانیہ ان کی زنبیل میں نہیں ۔جسے وہ اپنی مظلومیت یا معصومیت ثابت کرنے کیلئے استعمال کرسکیں۔ چنانچہ وہ تاریخ پہ تاریخ ،تاریخ پہ تاریخ دیتے چلے جارہے ہیں۔ 


Tags

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)