گردو پیش
عمران خان اب کیا کریں گے؟
محمد عارف قریشی
وطن عزیز پاکستان کی اس سے بڑی خوش قسمتی اور کیا ہوگی کہ 2018ء میں اسے ایک ایسا حکمران نصیب ہو گیا جو غیب کا علم جانتا ہے۔ ولی اللہ کی صفات رکھتا ہے۔ ہماری مراد سابق وزیر اعظم جناب عمران خان سے ہے۔ اپریل 2022ء میں ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی جس کا انہیں جولائی 2021ء میں پتا چل گیا تھا۔ اسی طرح 3نومبر کو وزیر آباد میں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا جس کا 2ماہ پہلے انہیں علم ہوچکا تھا بلکہ اس کا مبینہ جواز اور قاتلوں کے نام بھی وہ جان چکے تھے۔ اگرچہ اس سلسلے میں عدم اعتماد کی تحریک سے بچنے کیلئے انہوں نے بہت ہاتھ پائوں مارے یہاں تک کہ آرمی چیف کو ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی پیشکش بھی کر دی مگر جنرل باجوہ چونکہ نیوٹرل رہنے کا فیصلہ کر چکے تھے اس لیے وہ ان کے دام میں نہیں آئے اور خان صاحب کو کرسی چھوڑنا پڑی۔ جہاں تک اُن پر قاتلانہ حملے کا تعلق ہے حیرانی کی بات ہے کہ پہلے سے علم ہونے کے باوجود انہوں نے اس کے لیے کوئی حفاظتی اقدامات کیوں نہ کیے یہ تو جانتے بوجھتے خود کو خطرے میں ڈالنا ہوا۔ اس سے سابق وزیر اعظم کا مقصد کیا ہوسکتا ہے؟ اس بارے طرح طرح کی چہ میگوئیاں ہورہی ہیں۔ جنہیں چھوٹا منہ بڑی بات ہونے کے باعث ہم دہرا نہیں سکتے۔
عمران خان نے امریکہ کے بعد اسٹیبلشمنٹ کو بھی اپنے خلاف رجیم چینج کی سازش کے الزام سے بری کر دیا ہے۔ البتہ انہوں نے یہ شکایت ضرور کی ہے کہ وہ ان کی حکومت کو گرائے جانے سے تو بچا سکتے تھے۔ اس سے بڑھ کر فوج کو سیاست میں مداخلت کی دعوت اور کیا ہوگی؟ بہرحال اب رہ گیا تھا نئے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف جنرل سٹاف کی تعیناتی کا معاملہ۔ تو خان صاحب نے اسے متنازعہ بنانے کی سرتوڑ کوشش کی ۔وہ سائفر کے بعد اس تقرری سے کھیلنا چاہتے تھے لیکن خدا کا شکر ہے کہ صدر مملکت کی بات اُن کی سمجھ میں آگئی اور انہوں نے ضد چھوڑ دی۔ اس طرح نہ صرف یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہوگیا بلکہ ملک ایک بڑے سیاسی اور قانونی بحران سے بچ گیا اور صدر عارف علوی ؎ باغباں بھی خوش رہے راضی رہے صیاد بھی ۔ کے مصداق سرخرو ہوئے۔ اس کے بعد نئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان باقی رہ جاتا ہے تو اس سلسلے میں پی ٹی آئی والوں کا خیال ہے کہ 26نومبر کو راولپنڈی میں تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع دیکھ کر نہ صرف حکومت بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے بھی چھکے چھوٹ جائیں گے اور وہ مقررہ مدت سے پہلے انتخابات کے انعقاد پر مجبور ہوں گے۔
سوچنے کی بات ہے کہ اگر عمران خان کا یہ مطالبہ منظور ہوجاتا ہے تو کیا فوری طور پر سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ ملکی معیشت کی ڈولتی نائو اور سیاسی عدم استحکام کو چین آجائے گا۔ اگر ایسا ممکن ہو تو ہم وزیر اعظم شہباز شریف سے دست بستہ گزارش کریں گے کہ وہ پہلی فرصت میں وزارت عظمیٰ کا یہ طوق اپنے گلے سے اتار پھینکیں کیونکہ اب تک تو انہوں نے اس سے کوئی نیک نامی نہیں کمائی اور آگے بھی ان کیلئے کوئی پھولوں کی سیج نہیں بچھی ہوئی۔ یہ تو کانٹوں کا تاج ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا سیاسی مستقبل مزید تاریک کرتا چلا جائے گا۔
سابق وزیر اعظم کی اس احتجاجی تحریک کا ایک مقصد پاکستان کے عوام کو حقیقی آزادی دلانا بھی ہے۔ یعنی امریکہ کی غلامی سے آزادی جو بقول ان کے جب تک وہ زندہ ہیں اسے جاری رکھیں گے۔ اللہ انہیں لمبی زندگی دے کیا انہیں یقین ہے کہ ان کا یہ چورن بدستور بکتا رہے گا۔ جبکہ ہمیں یقین کامل ہے کہ آج بھی اگر امریکہ ماضی کی طرح پاکستانیوں کیلئے ’’ویزہ لاٹری سکیم‘‘ کا اجراء کر دے تو بینکوں کے سامنے اس کے لیے حسبِ سابق میلوں لمبی لائنیں لگی ہوں گی اور لاکھوںلوگ امریکہ جانے کی درخواستیں لیے کھڑے ہوں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں انٹی امریکہ عنصر خاصی تعداد میں پایا جاتا ہے جس کے مخالفانہ جذبات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خان صاحب نے حقیقی آزادی کا یہ بیانیہ بنایا اور لوگوں کی بڑی تعداد کو اپنے گرد جمع کرلیا لیکن تاریخ شاہد ہے کہ ایسے سیاسی نعرے وقتی ہوتے ہیں۔ ایک نہ ایک دن اُن کی گرد بیٹھ جاتی ہے۔ چنانچہ اس نعرے کا غبار بھی ایک دن چھٹ جائے گا یا خان اعظم خود ہی اپنے سابقہ ریکارڈ کے مطابق اسے ترک کر دیں گے۔ جہاں تک 26نومبر کے راولپنڈی کے جلسے کی بات ہے سوچنا یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہوگا؟ ایک ٹی وی اینکر نے اس کا بڑا دلچسپ جواب دیا ہے کہ اس کے بعد عمران خان ایک اور جلسہ کریں گے۔
آخر میں اسی حوالے سے ایک لطیفہ آپ کی نذرہے۔ ایک سیاستدان نے الیکشن ہارنے پر اپنی شکست کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنے دوست کو بتایا کہ میں اپنی جوانی کی وجہ سے الیکشن ہار گیا۔’’ مگر تم تو بوڑھے ہو‘‘۔ دوست نے کہا۔ ’’دراصل لوگوں کو معلوم ہوگیا تھا کہ میری جوانی کیسے گزری‘‘۔ سیاست دان نے وضاحت کی۔ عمران خان کے ساتھ بھی ایک دن یہی ہونا ہے۔ جس دن لوگوں کو پتا چل گیا کہ اُن کی جوانی کیسے گزری تھی تو وہ انہیں آسمان سے زمین پر لے آئیں گے۔ کیونکہ ان کی جوانی کے تذکروں میں کچھ پردہ نشینوں کے نام بھی آتے ہیں۔ جیسے سیتا وائٹ، زینت امان وغیرہ وغیرہ ۔
(نوٹ: ایڈمن کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں)


